Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
180 - 273
یہ ایک قول تھا جس کی تائید ہر موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنے عمل سے کی، 

    ابتداء اسلام میں ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز پڑھنے میں مشغول تھے، عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا گلا گھونٹنا چاہا، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسکو دھکیل دیا اور کہا کہ ایک آدمی کو صرف اس لیے قتل کرتے ہوکہ وہ کہتا ہے کہ میرا معبود اللہ ہے ،حالانکہ وہ تمہارے خدا کی جانب سے دلائل لے کر آیا ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی، باب قول النبی لوکنت متخذاخلیلا، الحدیث:۳۶۷۸،ج۲،ص۵۲۴)
ہجرت کے بعد خطرات اور بھی زیادہ ہوگئے تھے، کفار مکہ کے علاوہ اب منافقین اور یہود نئے دشمن ہوگئے تھے ، جن کا رات دن ڈر لگا رہتا تھا،مگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی حفاظت کے لئے اپنے آپ کو ان تمام خطرات میں ڈال دیتے تھے، چنانچہ ابتداء ہجرت میں  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ایک شب بیدار ہوئے تو فرمایا کاش آج کی رات کوئی صالح بندہ میری حفاظت کرتا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہتھیار کی جھنجھناہٹ کی آواز آئی۔  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے آواز سنکر فرمایا کون ہے؟ جواب ملا میں سعد بن ابی وقاص فرمایا کیوں آئے بولے میرے دل میں  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت خوف پیدا ہوا اس لئے حفاظت کے لئے حاضر ہوا ۔
(سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب مناقب ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص، الحدیث:۳۷۷۷،ج۵،ص۴۱۹)
ان خطرات کی وجہ سے اگر  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم تھوڑی دیر کے لئے بھی آنکھ سے اوجھل ہوجاتے تو جاں نثاروں کے دل دھڑکنے لگتے تھے۔
Flag Counter