Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
179 - 273
ہاتھ بڑھاتا تھا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تلوار کے ذریعہ سے روک دیتے تھے، اس واقعہ سے عروہ کی اس طرف توجہ ہوگئی اور اس نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے طرز عمل کو بغور دیکھنا شروع کیا۔ تو اس پر یہ اثر پڑا کہ پلٹا تو کفار سے بیان کیا کہ میں نے قیصر وکسریٰ اور نجاشی کے دربار دیکھے ہیں۔ لیکن محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب جس قدر محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں اس قدر کسی بادشاہ کے رفقاء نہیں کرتے۔ اگر وہ تھوکتے ہیں تو ان لوگوں کے ہاتھوں میں ان کا تھوک گرتا ہے اور وہ اپنے جسم و چہرہ پر اس کو ملتے ہیں، اگر وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو جان نثار کرتے ہیں اوروہ لوگ بچے کھچے پانی کیلئے باہم لڑ پڑتے ہیں اگر ان کے سامنے بولتے ہیں تو انکی آوازیں پست ہوجاتی ہیں، اور وہ ان کی طرف آنکھ بھرکر نہیں دیکھتے۔
(صحیح البخاری،کتاب الشروط، باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اہل الحرب وکتابۃ الشروط،الحدیث:۲۷۳۱،ج۲،ص۲۲۳)
جاں نثاری
    صلح حدیبیہ میں جب عروہ نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے کہا کہ میں  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے ایسے چہرے اور مخلوط آدمی دیکھتا ہوں جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل پر اس طنزآمیز فقرہ نے نشتر کا کام دیااور انہوں نے برہم ہوکے کہا ہم اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ؟
(صحیح البخاری،کتاب الشروط، باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اھل الحرب.....الخ، الحدیث:۲۷۳۱،ج۲،ص۲۲۳)
Flag Counter