ہاتھ بڑھاتا تھا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ تلوار کے ذریعہ سے روک دیتے تھے، اس واقعہ سے عروہ کی اس طرف توجہ ہوگئی اور اس نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے طرز عمل کو بغور دیکھنا شروع کیا۔ تو اس پر یہ اثر پڑا کہ پلٹا تو کفار سے بیان کیا کہ میں نے قیصر وکسریٰ اور نجاشی کے دربار دیکھے ہیں۔ لیکن محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب جس قدر محمدصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے ہیں اس قدر کسی بادشاہ کے رفقاء نہیں کرتے۔ اگر وہ تھوکتے ہیں تو ان لوگوں کے ہاتھوں میں ان کا تھوک گرتا ہے اور وہ اپنے جسم و چہرہ پر اس کو ملتے ہیں، اگر وہ کوئی حکم دیتے ہیں تو جان نثار کرتے ہیں اوروہ لوگ بچے کھچے پانی کیلئے باہم لڑ پڑتے ہیں اگر ان کے سامنے بولتے ہیں تو انکی آوازیں پست ہوجاتی ہیں، اور وہ ان کی طرف آنکھ بھرکر نہیں دیکھتے۔