یہ تعظیم ،یہ ادب، یہ عزت ،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ ہی مخصوص نہ تھی، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اسی طرح ادب کرتے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے بعد قبر کے متعلق اختلاف ہوا کہ لحد کھودی جائے یا صندوق ، اس پر لوگوں نے شور و غل کرنا شروع کردیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے وفات و حیات دونوں حالتوں میں شور و شغب نہ کرو۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب الجنائز،باب ماجاء فی الشق، الحدیث:۱۵۵۸، ج۲،ص۲۴۵)
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس ادب و احترام کا منظر صلح حدیبیہ میں عروہ کو نظر آیا تو وہ سخت متاثر ہوا ،اس نے صلح سے متعلق آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے گفتگو کی، تو عرب کے طریقے کے مطابق ریش مبارک کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا، لیکن جب جب