Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
176 - 273
کے علاوہ انصار کے تمام خاندان اچھے ہیں، حضرت سعد بن عبادہ قبیلہ بنو ساعدہ سے تھے ، ان کو جب معلوم ہوا کہ  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے قبیلے کو چوتھے نمبر پر رکھا ہے تو ان کو کسی قدر نا گوار ہوا، بولے میرے گدھے پر زین کسومیں خود رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے اس کے متعلق گفتگو کروں گا، لیکن ان کے بھتیجے حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی تردید کے لئے جاتے ہیں ؟ حالانکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم وجوہ فضیلت کے سب سے زیادہ عالم ہیں، یہ کیا کم ہے کہ آپ کا چوتھا نمبر ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب الفضائل،باب فی خیر دورالانصار.....الخ،الحدیث: ۲۵۱۱،ص۱۳۶۱)
     صلح حدیبیہ کے بعد کافروں کا مسلمانوں میں اختلاط ہوگیا، حضرت سلمہ آئے اور ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے،چار مشرک بھی اس جگہ آئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کردیا، ان کو گوارا نہ ہوسکا، اٹھ گئے دوسری جگہ چلے گئے، اور چاروں مشرک بھی تلوار کو لٹکاکر سورہے ، اسی حالت میں شور ہوا کہ ابن زنیم قتل کردیا گیا حضرت سلمہ نے موقع پاکر تلوار میان سے کھینچ لی، اور چاروں پر حالت خواب میں حملہ کرکے ان کے تمام ہتھیاروں پر قبضہ کرلیا، اور کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو عزت دی تم میں سے جو شخص سر اٹھائے گا اس کا دماغ پاش پاش کردیا جائے گا۔
(صحیح مسلم، کتاب الجھاد،باب غزوۃ ذی قردوغیرہا.....الخ، الحدیث: ۱۸۰۷، ص۱۰۰۰)
    ایک شخص کا نام محمد تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ ایک آدمی ان کو گالی دے رہا ہے، بلاکر کہا کہ دیکھو تمہاری وجہ سے محمد کو گالی دی جارہی ہے، اب تادم مرگ تم
Flag Counter