اگر کسی دوسرے شخص کے متعلق آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت بے ادبی کا خیال ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سخت برہم ہوتے۔ ایک بار حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت سرائے اقدس میں آئے۔ دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بآواز بلند بول رہی ہیں فوراً طمانچہ اٹھایا اور کہا اب کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سامنے آواز بلند نہ ہونے پائے ۔
(سنن ابی داود،کتاب الأدب، باب ماجاء فی المزاح،الحدیث:۴۹۹۹،ج۴، ص۳۹۰)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم پر ایک شخص کا کچھ قرض تھا، اس نے گستاخانہ طریقے سے تقاضا کیا، تو تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس پربرانگیختہ ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:رکو !کہ قرض خواہ کو مقروض پر مطالبہ کرنے کا اس وقت تک حق ہے جب تک وہ قرض ادا نہ کرے ۔
(سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، باب لصاحب الحق سلطان ، الحدیث۲۴۲۵، ج۳،ص۱۵۰)
ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سفر میں تھے ایک بدو آیا اور وحشیانہ لہجہ میں آواز بلند کی اور پکارا یامحمد ، یامحمد ۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا یہ کیا؟ (اس طرح کہنا) منع ہے۔
(سنن الترمذی،کتاب الدعوات، باب فی فضل التوبۃ والاستغفار.....الخ، الحدیث:۳۵۴۷،ج۵،ص۳۱۶)
ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :کہ انصار کے خاندانوں میں سب سے افضل بنو نجار ہیں، پھر بنو عبدالاشہل، پھر بنو حارث بن الخزرج ، پھر بنو ساعدہ، ان