| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم کی خدمت میں گزارش کی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم اوپر قیام فرمائیں۔ ارشاد ہوا کہ نیچے کا حصہ ہمارے لئے زیادہ موزوں ہے۔
ایک روایت میں ہے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ برابر اس بات پر مصر رہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اوپر کی منزل میں رہیں اورخود نچلی منزل میں رہیں۔
بولے کہ جس چھت کے نیچے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم ہوں ہم اس پر نہیں چڑھ سکتے،لہذا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم نے بالا خانہ پر قیام فرمایا۔(مدارج النبوت،قسم دوم، باب چہارم،بیان قضیۂ ہجرت آنحضرت ،ج۲، ص۶۵)
بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے سن میں بڑے تھے، لیکن ان کو فرط ادب سے یہ گوارانہ تھا کہ ان کو آپ سے بڑا کہا جائے۔
ایک بار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا آپ بڑے ہیں یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم؟ بولے بڑے تو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں، البتہ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے پیدا ہوا۔(سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب ماجاء فی میلاد النبی، الحدیث:۳۶۳۹، ج۵، ص۳۵۶)
اگر نادانستگی میں بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی شان میں کوئی نامناسب بات نکل جاتی تو اسکی معافی چاہتے ۔ ایک صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بچہ مرگیا، اور وہ اس پر رورہی تھیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا گزر ہوا، تو فرمایا: خدا سے ڈرو اور صبر کرو، بولیں تمہیں میری مصیبت کی کیا پرواہ ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم چلے گئے تو لوگوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم تھے، دوڑی ہوئی آئیں اور عرض کی کہ میں نے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم