| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
قبیلہ اسلم سے تعلق رکھتے تھے باہم تیر اندازی میں مقابلہ کررہے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اے بنو اسمٰعیل تیر پھینکو کیونکہ تمہارے باپ تیر انداز تھے اور میں فلاں قبیلہ کے ساتھ ہوں۔ دوسرے گروہ کے لوگ فوراً رک گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے پوچھا کہ تیر کیوں نہیں پھینکتے ؟ بولے اب کیونکر مقابلہ کریں جبکہ آپ ان کے ساتھ ہیں۔ فرمایا: تیرپھینکو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
(صحیح البخاری،کتاب الجھاد والسیر،باب التحریض عی الرّمی ، الحدیث: ۲۸۹۹،ج۲،ص۲۸۲)
علامہ ابن حجررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس لئے رک گئے کہ اگروہ اپنے فریق پر غالب آگئے اور رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم بھی اس کے ساتھ ہیں تو آپ بھی مغلوب ہوجائیں گے۔ اس لئے انہوں نے ادب سے مقابلہ ہی کرنا چھوڑدیا ، اس ادب و احترام کا نتیجہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت کسی قسم کا سوء ادب گوارا نہ کرتے۔
(فتح الباری شرح صحیح البخاری،کتاب الجھاد والسیر، باب التحریض علی الرمی، تحت الحدیث:۲۸۹۹،ج۷،ص۷۷)
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان میں قیام فرمایا، اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نیچے کے حصے میں اوران کے اہل و عیال اوپر کے حصے میں رہنے لگے۔ ایک رات حضرت ابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہوئے تو کہا کہ ہم اوررسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے اوپر چلیں پھریں۔ اس خیال سے تمام اہل و عیال کو ایک کونے میں کردیا۔ صبح کو