Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
171 - 273
کرتے۔  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم غزوہ تبوک کے سفر میں قضائے حاجت کے لئے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے الگ ہوگئے، نماز فجر کا وقت آگیا تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے آنے سے پیشتر ہی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت میں نماز شروع کردی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پہنچے تو ایک رکعت نماز ہوچکی تھی، اس لئے آپ دوسری رکعت میں شریک ہوئے۔ نماز ہوچکی تو تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس کو بے ادبی بلکہ گناہ خیال کیا اور سب کے سب کثرت کے ساتھ تسبیح کرنے لگے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تم نے اچھا کیا۔
(سنن ابی داود،کتاب الطھارۃ، باب المسح علی الخفین، الحدیث:۱۴۹، ج۱،ص۸۳)
ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کوئی نزاع چکانے کے لئے قبیلہ بنو عمر و بن عوف میں تشریف لے گئے۔ نماز کا وقت آگیا تو موذن حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آیا کہ نماز پڑھا دیجئے۔ وہ نماز پڑھا رہے تھے کہ سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم آکر شریک جماعت ہوگئے ۔ لوگوں نے تصفیق کی(بائیں ہاتھ کی پشت پر دائیں ہاتھ کی انگلیاں اس طرح مارنا کہ آواز پیداہو،تصفیق کہلاتا ہے۔) حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگرچہ کسی طرف متوجہ نہ ہوتے تھے، تاہم جب لوگوں نے متصل تصفیق کی، تو مڑکر دیکھا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وبارک وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر قائم رہو۔ انہوں نے پہلے تو خد ا کا شکر کیا کہ  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کی امامت کو پسند فرمایا،پھر پیچھے ہٹ آئے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی ، نماز سے فارغ ہوکر فرمایاکہ جب میں نے حکم دیا تو تم کیوں اپنی جگہ سے ہٹ آئے ؟ بولے کہ ابن ابی قحافہ کا یہ منہ نہ تھا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ
Flag Counter