Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
170 - 273
احادیث میں اسی حالت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے،  کانما علیٰ رءُ وسھم الطیر یعنی صحابہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سامنے اس طرح بیٹھتے تھے گویا ان کے سروں پر چڑیا ں بیٹھی ہوتی ہیں۔
(سنن ابی داود، کتاب الطب، باب فی الرجل یتداوی، الحدیث:۳۸۵۵،ج۴، ص۵)
گھر میں بچے پیدا ہوتے تو ادب سے ا ن کا نا م محمد نہ رکھتے ،ایک دفعہ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر میں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے محمد نام رکھا۔ لیکن ان کی قوم نے کہا ہم نہ یہ نام رکھنے دیں گے نہ اس کنیت سے تم کو پکاریں گے تم اس کے متعلق خود رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے مشورہ کرلو۔ وہ بچے کو لیکر  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کیا ، تو ارشاد ہوا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ اختیار کرو۔
(صحیح مسلم ، کتاب الاٰداب ، باب النھی عن التکنی بابی القاسم.....الخ، الحدیث:۲۱۳۳،ص۱۱۷۸)
    اگر راستے میں کبھی ساتھ ہوجاتا تو ادب کی وجہ سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ سواری پر سوار ہونا پسند نہ کرتے۔ ایک بار حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا خچر ہانک رہے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: سوار کیوں نہیں ہولیتے۔ لیکن انہوں نے اس کو بڑی بات سمجھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے خچر پر سوار ہوں۔ تاہم امتثالا للامر(تعمیل حکم کے ليے)تھوڑی دور تک سوار ہولئے۔
             (سنن النسائی، کتاب الاستعاذۃ، ج۸،ص۲۵۳)
فرطِ ادب سے کسی بات میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر تقدم یا مسابقت گوارانہ
Flag Counter