Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
167 - 273
خلفاء ان یادگاروں کی نہایت عزت کرتے تھے، اور ان سے برکت اندوز ہوتے تھے، ایک بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے کسی عجمی بادشاہ کے نام خط لکھنا چاہا تو لوگوں نے کہا کہ جب تک خط پر مہر نہ ہو اہل عجم اسکو نہیں پڑھتے، اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی تیار کروائی،جس کے نگینہ پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم) کندہ تھا ، اس انگوٹھی کو خلفائے ثلاثہ نے محفوظ رکھا تھا، اخیر میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے ایک کنوئیں میں گرپڑی، انہوں نے تمام کنوئیں کا پانی نکال ڈالا،لیکن یہ گوہر نایاب نہ مل سکا۔
(سنن ابی داود،کتاب الخاتم،باب ماجاء فی اتخاذ الخاتم،الحدیث: ۴۲۱۴۔۴۲۱۵،ج۴،ص۱۱۹)
حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے قصیدے کے صلہ میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود اپنی چادر عنایت فرمائی تھی۔ یہ چادر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے صاحبزادہ سے خریدلی اوران کے بعد تمام خلفاء عیدین میں وہی چادر اوڑھ کر نکلتے تھے۔
 (الاصابۃ، تذکرۃ کعب بن زھیر،ج۵،ص۴۴۳)
    آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم جس پیالے میں پانی پیتے تھے، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس محفوظ تھا ایک بار وہ ٹوٹ گیا تو انہو ں نے اسکو چاندی کے تار سے جڑوایا، اس میں ایک لوہے کا حلقہ بھی لگا ہوا تھا، بعد کو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں سونے یا چاندی کا حلقہ لگوانا چاہا لیکن حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منع کیا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے جو کام کیا ہے اس میں تغیر نہیں کرنا چاہے۔ 

     آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دواورپیالے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت
Flag Counter