| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
اس کا سننا تھا کہ تلوار لیکر کفار کے جم گھٹے میں گھس گئے اور شہید ہوئے ۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی دلیری اور بہادری کسی لڑائی میں نہیں دیکھی اورشہید ہونے کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو میں نے دیکھا کہ وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرہانے کھڑے تھے اور ارشاد فرماتے تھے: اللہ عزوجل تم سے راضی ہو میں تم سے راضی ہوں ۔اسکے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے خود اپنے دست مبارک سے دفن فرمایا باوجود یکہ اس لڑائی میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم خود بھی زخمی تھے ۔حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے کسی کے عمل پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل پر آیا میرا دل چاہتا ہے کہ اللہ عزوجل کے یہاں ان جیسا اعمال نامہ لیکر پہنچوں۔(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ، وھب بن قابس، ج۶،ص۴۹۲)
حضرت ام ِعمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا : یہ جنگ احدمیں اپنے شوہر حضرت زیدبن عاصم اور اپنے دو بیٹوں حضرت عمارہ اور حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کوساتھ لیکر میدان میں کود پڑیں۔ اور جب کفار نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر حملہ کردیا تو یہ ایک خنجر لیکر کفار کے مقابلہ میں کھڑی ہوگئیں اور کفار کے تیرو تلوار کے ہر ایک وارکو روکتی رہیں۔ یہاں تک کہ جب ابن قمیہ ملعون نے رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر تلوار چلادی تو حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس تلوار کو اپنی پیٹھ پر روک لیا۔ چنانچہ ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم لگا کہ غار پڑگیا۔ پھر خود بڑھ کرابن قمیہ کے کندھے پر اس زور سے تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہوجاتا مگر وہ ملعون دوہری زرہ پہنے ہوئے تھااس لئے بچ گیا۔ اس جنگ میں بی بی ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے سروگردن پرتیرہ زخم لگے تھے۔