حضرت بی بی ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے فرزندحضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ایک کافر نے جنگ احد میں زخمی کردیا اور میرے زخم سے خون بند نہیں ہوتا تھا۔ میری والدہ ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کوباندھ دیا اور کہا بیٹا اٹھو۔ کھڑے ہوجاؤ اور پھرجہادمیں مشغول ہوجاؤ۔ اتفاق سے وہی کافر سامنے آگیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا کہ اے ام عمارہ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہا! دیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے جھپٹ کر اس کافر کی ٹانگ میں تلوارکا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ کافر گرپڑا، اور پھر چل نہ سکابلکہ سرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا۔یہ منظردیکھ کررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم مسکرائے اور فرمایا کہ اے ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! تو خداعزوجل کاشکر ادا کرکہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی کہ تونے خدا عزوجل کی راہ میں جہاد کیا۔
حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ ہم لوگوں کو جنت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت گزاری کا شرف عطا فرمائے ،اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ان کے لئے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لئے اس طرح دعا فرمائی کہ: