| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
چچا تھے، لڑتے ہوئےبہت آگے نکل گئے دیکھا کہ کچھ لوگوں نے ہتھیار پھینک دیئے۔ انس بن نصر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ یہاں تم لوگ کیا کرتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا کچھ پتانہیں ! لوگوں نے کہا اب لڑ کر کیا کریں گے؟جن کے لئے لڑتے تھے وہی نہ رہے۔ہم نے سنا ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم شہید ہوگئے۔ انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سنکر تڑپ گئے اورفرمایا کہ پھر ہم ان کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے۔ یہ کہہ کر دشمن کی فوج میں گھس گئے اور لڑ کر شہادت پائی۔ جنگ کے بعد جب ان کی لاش دیکھی گئی تو ۸۰ سے زیادہ تیر، تلوار اور نیزہ کے زخم تھے ،کوئی شخص پہچان تک نہ سکا ان کی بہن نے انگلی دیکھ کر لاش کو پہچانا۔
(اسد الغابۃفی معرفۃ الصحابۃ،انس بن نضر،ج۱،ص۱۹۸)
حضرت وہب بن قابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کارنامہ : حضرت وہب بن قابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صحابی ہیں، جو کسی وقت میں مسلمان ہوئے تھے اور گاؤں میں رہتے تھے بکریاں چراتے تھے۔ اپنے بھتیجے کے ساتھ ایک رسی میں بکریاں باندھے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے، پوچھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کہاں تشریف لے گئے معلوم ہوا کہ احد کی لڑائی پرگئے ہوئے ہیں، وہ بکریوں کو وہیں چھوڑ کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے پاس پہنچ گئے ،اتنے میں ایک جماعت کفار کی حملہ کرتی ہوئی آئی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا جوا ن کو منتشر کردے وہ جنت میں میرا رفیق ہے ۔ حضرت وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زور سے تلوار چلانی شروع کی اورسب کو ہٹادیا دوسری مرتبہ پھر یہی صورت پیش آئی تیسری مرتبہ پھر ایسا ہی ہوا، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے انکو جنت کی خوشخبری دی