Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
153 - 273
یااللہ!عزوجل تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے راستے میں کاٹے گئے پھر تو کہے کہ سچ ہے میرے ہی راستے میں کاٹے گئے ۔حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آمین کہی دوسرے دن لڑائی ہوئی تو دونوں حضرات کی دعائیں اسی طرح قبول ہوئیں جس طرح مانگی تھیں۔
(الاستیعاب،باب حرف العین،ج۳،ص۱۵)
قدمِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر شہادت: جنگ احد کی ہل چل اور بدحواسی میں جب مہر رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو ہجوم کفار کے دل بادل نے گھیرلیا۔ اور اس وقت سید المحبوبین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا کہ کون مجھ پر جان دیتا ہے۔ تو حضرت زیاد بن سکن رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند انصاریوں کولے کر یہ خدمت ادا کرنے کے لئے بڑھے۔ ہر ایک نے جاں بازی سے لڑتے ہوئے اپنی جان فدا کردی، مگر ایک زخم بھی رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو لگنے نہ دیا، اور زیاد بن سکن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ زخموں سے چور چور ہوکر دم توڑ رہے تھے۔ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے حکم دیا کہ ان کالاشہ میرے قریب لاؤ، لوگ اٹھاکر لائے ابھی کچھ جان باقی تھی آپ نے زمین پر گھسٹ کر اپنا منہ محبوب خدا عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے قدموں پر رکھ دیا اور اسی حالت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روح پرواز کرگئی۔ سبحان اللہ! اس موت پر ہزاروں زندگیاں قربان ۔
 (اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، حضرت زیاد بن سکن رضی اللہ عنہ ، ج۲، ص۳۲۱)
تیرے قد موں پر سر ہو اور تار زندگی ٹوٹے

یہی انجام الفت ہے یہی مرنے کا حاصل ہے
اسّی زخم : حضرت انس بن نضررضی اللہ تعالیٰ عنہ جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
Flag Counter