| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
آپ کو اپنے غسل کرنے کی ضرورت بھی یاد نہ رہی۔ اسی حالت میں معرکہ جنگ میں تشریف لے گئے اور اسی دن حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے سامنے شہید بھی ہوگئے۔ جب لڑائی ختم ہوئی تو شہداء کی لاشیں جمع کرنے کا حکم نبوی ہوا! سب لاشیں مل گئیں مگر حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش مبارک نہ ملی یکایک حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھاکر ملاحظہ فرمایا تو دیکھا کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش فرشتے اوپر لے جاکر ایک نورانی تختے پر لٹاکر آب رحمت سے غسل دے رہے ہیں اسی دن سے آپ کا لقب غسیل الملا ئکہ ہوا۔
(الاستیعاب، حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ، ج۱،ص۴۳۳)
شوقِ شہادت: حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوہ احد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ اے سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ! آؤ مل کر دعا کریں ہرایک اپنی ضرورت کے مطابق دعا کرے اور دوسرا آمین کہے۔ پھر دونوں حضرات نے ایک کونے میں جاکر دعا کی۔ اول حضرت سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی۔ یااللہ! عزوجل جب کل لڑائی ہوتو میرے مقابلہ میں ایک بڑے بہادر کو مقرر فرمانا میں اس کو تیرے راستے میں قتل کروں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آمین کہی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی اے اللہ عزوجل! کل میدان جہاد میں میراایک بہادر سے مقابلہ کرا جو سخت حملہ والا ہو میں اس پر شدت سے حملہ کروں وہ بھی مجھ پر زور سے حملہ کرے اور میں بہتوں کو قتل کرکے پھر خود بھی شہید ہوجاؤں اور شہید ہونے کے بعد کافر میرے ناک کان کاٹ لیں پھر قیامت میں جب میں تیرے حضور پیش کیا جاؤں تو تو فرمائے عبداللہ !تیرے ناک کان کیوں کاٹے گئے تو میں عرض کروں