| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
پھیردیئے اور بعضوں کو قتل کیا اس کے بعد پھر ایک اور جماعت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر حملہ کے لئے بڑھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کیا انہوں نے پھر تنہا اس جماعت کا مقابلہ کیا۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آکر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس جوانمردی اور مدد کی تعریف کی تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: انہ منی وانا منہ بیشک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں،یعنی کمال اتحاد کی طرف اشارہ فرمایا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا:
''وانا منکما ''
اور میں تم دونوں سے ہوں۔
(مدارج النبوت،قسم سوم،باب چہارم،ج۲،ص۱۲۱،۱۲۲)
غسیل الملائکہ: جنگ احد کے ایام میں حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شادی ہوئی تھی۔جس رات آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی دلہن کو بیاہ کرلائے تھے،اسی رات حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی طرف سے اعلان ہوگیا کہ کفارِ مکہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے والے ہیں،ان کے مقابلے کے لئے میدان جہاد میں چلو۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ باوجودیکہ نوجوان تھے اورشادی کی پہلی شب تھی مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی طرف سے اعلان جہاد سنکر سب کچھ بھول گئے اور اپنی دلہن کو بھی نظرانداز کیا،گویا یہ شعر پڑھتے ہوئے کہ:
سب سے بیگانہ رہے یارو شناسا تیرا حور پر آنکھ نہ ڈالے کبھی شیدا تیرا
میدان جہاد میں چلنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس محویت کے عالم میں