Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
149 - 273
کہ واللہ میں ذلیل ہوں اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم عزیز ہیں اس کے بعد مدینہ میں داخل ہوسکا۔
    (السیرۃ النبویۃ،جھجاہ وسنان وما کان من ابن أبی،ج۳،ص۲۴۸۔۲۴۹)
    اسی طرح جنگ بدر میں کفار کا سپہ سالار عتبہ بن ربیعہ جب میدان میں نکلا تو اسکے فرزند حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار کھینچ کر اس کے مقابلے کو نکلے، مگر رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اس کو گوارا نہیں فرمایا کہ بیٹے کی تلوار باپ کے خون سے رنگین ہو،اس لئے ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقابلہ سے ہٹادیئے گئے اور عتبہ بن ربیعہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی تلوار سے قتل ہوا۔

باپ ناپاک بستر پاک : ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان صلح حدیبیہ کے زمانے میں مدینہ آئے اپنی بیٹی سے ملنے گئے اور بستر پر بیٹھنے لگے تو بی بی ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بستر الٹ دیا اور فرمایا کہ یہ اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا پاک بستر ہے اور تم مشرک ہونیکی وجہ سے ناپاک ہو اسلئے تم اس بستر نبوت پر نہیں بیٹھ سکتے۔ ابوسفیان کو اس سے بڑا رنج ہوا مگر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دل میں جو عظمت و محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم تھی اسکے لحاظ سے وہ کب برداشت کرسکتی تھیں کہ بستر نبوت پر ایک مشرک بیٹھے۔ اللہ اکبر! حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے باپ کی عظمت و محبت کو محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر قربان کردیا کیونکہ یہی ایمان کی شا ن ہے کہ باپ چھوٹتا ہو تو چھوٹ جائے مگر عظمتِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اور محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا دامن نہ چھوٹنے پائے۔
         (الطبقات الکبری،ام حبیبۃ بنت سفیان رضی اللہ عنہا،ج۸،ص۷۸)
Flag Counter