Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
148 - 273
رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درخواست بھی کی کہ اس کافر کی گردن اڑادی جائے مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اجازت مرحمت نہ فرمائی ۔ عبداللہ بن ابی کو جب اس کی خبر ہوئی کہ حضور تک یہ قصہ پہنچ گیا ہے تو حاضر خدمت ہوکر جھوٹی قسمیں کھانے لگاکہ میں نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا ہے۔ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جھوٹ نقل کردیا ہے۔ انصار کے بھی کچھ لوگ حاضر خدمت تھے۔ انہوں نے بھی سفارش کی کہ یارسول اللہ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم عبداللہ قوم کا سردار ہے بڑا آدمی شمار ہوتا ہے کہ ایک بچہ کی بات اس کے مقابلے میں قابل قبول نہیں ممکن ہے کہ سننے میں کچھ غلطی ہوئی ہویا سمجھنے میں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اس کا عذر قبول فرمالیا۔

     حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب اس کی خبر ہوئی کہ اس نے جھوٹی قسموں سے اپنے کو سچا ثابت کردیا اور زید کو جھٹلادیا تو شرم کی وجہ سے باہر نکلنا چھوڑدیا۔ بالآخر سورۂ منافقون نازل ہوئی جس سے حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سچائی اور عبداللہ بن ابی کی جھوٹی قسموں کا راز کھل گیا۔ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وقعت موافق و مخالف سب کی نظروں میں بڑھ گئی اور عبداللہ بن ابی کا قصہ بھی سب پر ظاہر ہوگیا عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا نام بھی عبداللہ تھا اور بڑے پکے مسلمان اور سچے عاشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم تھے جنگ سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ سے باہر تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور باپ سے کہنے لگے :اس وقت تک مدینہ میں داخل ہونے نہیں دوں گا جب تک تو اس کا اقرار نہ کرے کہ تو ذلیل ہے اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم عزیز ہیں۔ اس کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ہمیشہ سے باپ کے ساتھ نیکی کابرتاؤ کرنے والے تھے مگر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے مقابلے میں باپ کی کوئی عزت و محبت دل میں نہ رہی۔ آخر اس نے مجبور ہوکر اقرار کیا