Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
147 - 273
بیٹے کی تلوار باپ کا سر:   ۵ ھ؁ میں بنو المصطلق کی مشہور جنگ ہوئی اس میں ایک مہاجر اور ایک انصاری کی باہم لڑائی ہوگئی معمولی بات تھی مگر بڑھ گئی ہر ایک نے اپنی اپنی قوم سے دوسرے کے خلاف مدد چاہی اور دو فریق ہوگئے۔ قریب تھا کہ آپس میں لڑائی ہوجائے مگر بعض لوگوں نے درمیان میں پڑ کر صلح کرادی۔ عبداللہ بن ابی منافقوں کا سردار اور مسلمانوں کا سخت مخالف تھا مگر چونکہ اسلام ظاہر کرتا تھا اس لئے اس کے ساتھ خلاف کا برتاؤ نہ کیا جاتا تھا۔ اور یہی اس وقت کے منافقوں کے ساتھ عام برتاؤ کیا جاتا تھا۔ اس کو جب اس قصے کی خبر ہوئی تو اس نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی شان میں گستا خانہ لفظ کہے اور اپنے دوستوں سے خطاب کرکے کہا کہ یہ سب کچھ تمھارا اپنا ہی کیا ہوا ہے۔ تم نے ان لوگوں کو اپنے شہروں میں ٹھکانا دیا اپنے مالوں کو ان کے درمیان آدھا آدھا بانٹ دیا اگر تم ان لوگوں کی مدد کرنا چھوڑ دو تو ابھی سب چلے جائیں اور یہ بھی کہا کہ خدا عزوجل کی قسم اگر ہم مدینہ پہنچ گئے تو ہم عزت والے مل کر ان ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں گے۔ 

    حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نو عمر بچے تھے۔ وہاں موجود تھے یہ سنکر تاب نہ لاسکے کہنے لگے خداعزوجل کی قسم! تو ذلیل ہے، تو اپنی قوم میں بھی ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ تیرا کوئی حمایتی نہیں اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم عزت والے ہیں۔ رحمن عزوجل کی طرف سے بھی عزت دیئے گئے ہیں اور اپنی قوم میں بھی عزت والے ہیں عبداللہ بن ابی نے کہا اچھا چپکا رہ میں تو ویسے ہی مذاق میں کہہ رہا تھا مگر حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جاکر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے نقل کردیا۔ حضرت عمر