Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
146 - 273
رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آپہنچا ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو منافق سے پوچھا کیا یہودی جو کچھ بیا ن کر رہا ہے درست ہے؟منافق نے کہا ہاں سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اس کے حق میں فیصلہ کرچکے ہیں۔ فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اچھا ٹھہرو میں ابھی آیا اور تمھارا فیصلہ کرتا ہوں یہ کہہ کر آ پ اندر تشریف لے گئے اور پھر ایک تلوار لیکر نکلے اور اس منافق کی گردن پر یہ کہتے ہوئے ماری کہ جوحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا فیصلہ نہ مانے اس کا فیصلہ یہ ہے۔

    حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم تک یہ بات پہنچی تو  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا واقعی عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تلوار کسی مومن پر نہیں اٹھتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمادی ۔
فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ
ترجمہ کنزالایمان:تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں۔(پ5،النساء:65)
        (الدرالمنثور،النساء:۶۵،ج۲،ص۵۸۵)
شمشیر عمر رضی ا للہ تعالیٰ عنہ او ر ماموں کا سر: جنگ بدر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حقیقی ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ غصے میں بھرا ہوا جنگ کے لیے میدان میں نکلاحضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑھ کر مقابلہ کیا۔ اور بھانجے نے ماموں کے سر پر ایسی تلوار ماری کہ سر کو کاٹتی ہوئے جبڑے تک اتر گئی اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قیامت تک کے لئے یہ نظیر قائم کردی کہ قبیلہ اور رشتہ داری سب کچھ محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر قربان ہے۔
Flag Counter