Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
143 - 273
تھا، '' ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے تجھ پر ظلم کر رکھا ہے تجھے اللہ عزوجل ذلت کی جگہ نہ رکھے اور ضائع نہ کرے تم ہمارے پاس آجاؤ ہم تمہاری مد د کریں گے۔''حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں یہ خط پڑھ کر انا للہِ پڑھا کہ میری حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کافر بھی مجھ میں طمع کرنے لگے ہیں اور مجھے اسلام تک سے ہٹانے کی تدبیریں ہونے لگی ہیں۔ یہ ایک مصیبت اور آئی اور اس خط کو میں نے ایک تنور میں پھینک دیااور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے جا کر عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ! اب تو  آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے اعراض کی وجہ سے کافر بھی مجھ میں طمع کرنے لگے۔ 

    اس حالت میں ہم پر چالیس روز گزرے تھے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کاقاصد میرے پاس حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا یہ ارشادِ والالیکر آیا کہ اپنی زوجہ کو بھی چھوڑ دو میں نے دریافت کیا کہ کیا منشا ہے اسکو طلاق دیدوں؟کہا نہیں بلکہ اس سے علیحدگی اختیار کرلو اور میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی ان ہی قاصد کی معرفت یہی حکم پہنچا میں نے اپنی زوجہ سے کہہ دیا کہ تو اپنے میکے میں چلی جا جب تک اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ فرمائے ،وہیں رہنا۔ ہلال بن امیہ کی زوجہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا :یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ! ہلال بالکل بوڑھے شخص ہیں کوئی خبر گیری کرنے والا نہ ہو گا تو ہلاک ہوجائیں گے ،اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اجازت دیں تو میں کچھ کام کاج ان کا کردیا کروں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا اچھا اس بات کی تجھے اجازت ہے مگر قربت نہ ہو انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ! اس بات کی طرف تو ان کومیلان بھی نہیں جس روز سے یہ واقعہ پیش آیا