وسلم کی مجلس میں حاضر ہو کر سلام کرتا۔ اور بہت غور سے خیال کرتا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے لب مبارک جواب کے لئے ہلے یا نہیں؟ نماز کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے قریب ہی کھڑے ہو کر نماز پوری کرتا اور آنکھ چراکر دیکھتا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم مجھے دیکھتے بھی ہیں یا نہیں۔ جب میں مشغول ہوتا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم مجھے دیکھتے اور جب میں ادھر متوجہ ہوتا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم مجھ سے رخ انور پھیر لیتے اور میری جانب سے اعراض فرمالیتے۔
غرض یہی حالات گزرتے رہے اور مسلمانوں کا بات چیت بند کردینا مجھ پر بہت ہی بھاری ہوگیا تو میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دیوار پر چڑھا وہ میرے رشتہ کے چچازاد بھائی تھے اور مجھ سے تعلقات بھی بہت ہی زیادہ تھے میں نے اوپر چڑھ کر سلام کیا۔ توانھوں نے بھی سلام کا جواب نہ دیا میں نے ان کو قسم دے کر پوچھا کہ کیا تمہیں معلو م نہیں کہ مجھے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے محبت ہے انھوں نے اس کا جواب نہ دیا۔ میں نے دوبار ہ قسم دی اور دریافت کیا وہ پھر بھی چپ ہی رہے میں نے تیسری بار قسم دے کر پوچھا تو انھوں نے صرف اتنا کہا ۔ اللہ عزوجل جانے اور اس کا رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم یہ کلمہ سنکر میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور میں وہاں سے لوٹ آیا۔
اسی دوران میں ایک مرتبہ مدینہ کے بازار میں جارہا تھا کہ ایک قبطی کوجو نصرانی تھا اور شام سے مدینہ منورہ اپنا غلہ فروخت کرنے آیا تھا یہ کہتے ہوئے سناکہ کوئی کعب بن مالک( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کاپتا بتائیے ۔ لوگوں نے اس کو میری طرف اشارہ کرکے بتایا۔ وہ نصرانی میرے پاس آیا اور غسان کے کافر بادشاہ کا خط مجھے لاکردیا اس میں لکھا ہوا