Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
144 - 273
ہے آج تک ان کا وقت روتے ہی گزر رہا ہے ۔

     حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس حال میں دس روز اور گزرے کہ ہم سے بات چیت میل جول چھوٹے ہوئے پورے پچاس دن ہوگئے۔ پچاسویں دن صبح کی نماز اپنے گھر کی چھت پر پڑھ کر میں نہایت غمگین بیٹھا ہو اتھا کہ زمین مجھ پر بالکل تنگ تھی اور زندگی دو بھر ہورہی تھی کہ سلع پہاڑ کی چوٹی پر ایک زور سے چلانے والے نے آواز دی کہ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوشخبری ہو تم کو میں اتنا ہی سنکر سجدہ میں گر گیا اور خوشی کے مارے رونے لگا اور سمجھا کہ تنگی دور ہوگئی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد ہماری معافی کا اعلان فرمایا جس پر ایک شخص نے پہاڑ پر چڑھ کر زور سے آواز دی جو سب سے پہلے پہنچ گئی، اسکے بعد ایک صاحب گھوڑے پر سوار بھاگے ہوئے آئے، میں نے اپنے پہننے کے کپڑے اس بشارت دینے والے کی نذر کئے اور پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ا س طرح میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی خوشخبری لیکر لوگ گئے۔ میں جب مسجد نبوی میں گیا تو لوگ خدمت اقدس میں حاضر تھے ۔ مبارکباد دینے کے لئے دوڑے اور سب سے پہلے ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑھ کر مبارکباددی اور مصافحہ کیا جوہمیشہ ہی یادگار رہے گا۔ میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی بارگاہ میں جا کر سلام کیا تو چہرہ انور کھل رہاتھا او ر خوشی کے انوارچہرہ مبارک سے ظاہر ہورہے تھے ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا چہر ہ مبارک خوشی کے وقت چاند کی طرح چمکنے لگتا تھا ۔

     میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم! میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میری جتنی جائداد ہے و ہ سب اللہ عزوجل کے راستے میں صدقہ ہے ( اس لئے کہ یہ امارت و