Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
141 - 273
اس سے پہلے کوئی گنا ہ کیا ہو۔ اگر تو کوئی عذر کرکے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے استغفار کی درخواست کرتا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا استغفار تیرے لئے کافی تھا۔ 

    میں نے ان سے پوچھا کہ کوئی اور بھی ایسا شخص ہے جس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہو۔ لوگوں نے بتایا کہ دو شخصوں کے ساتھ اور بھی یہی معاملہ ہوا کہ انھوں نے بھی یہی گفتگو کی جو تونے کی اور یہی جواب ان کوبھی ملا ہے جوتجھ کو ملا ایک ہلال بن امیہ دوسرے مرارہ بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں نے دیکھا کہ دو صالح شخص جو دونوں بدری ہیں وہ بھی میرے شریک حال ہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ہم تینوں سے بولنے کی بھی ممانعت فرمادی کہ کوئی شخص ہم سے کلام نہ کرے۔ اب اس ارشاد کی صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے تعمیل اس طرح کرکے دکھادی کہ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی ممانعت پر لوگوں نے ہم سے بولنا چھوڑدیا اور ہم سے اجتناب کیا۔ گویا دنیا ہی بدل گئی حتی کہ زمین باوجود اپنی وسعت کے ہمیں تنگ معلوم ہونے لگی سارے لوگ اجنبی معلوم ہونے لگے درودیوار بے گانے ہوگئے مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ اگر میں اس حال میں مرگیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم جنازہ کی نماز بھی نہ پڑھیں گے اور خدا نخواستہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا وصال شریف ہوگیا تو میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایسا ہی رہوں گا نہ مجھ سے کوئی کلام کریگا نہ میری نماز جنازہ پڑھے گا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے ارشاد کے خلاف کون کرسکتا ہے ۔

     غرض ہم تینوں نے پچاس دن اس حال میں گزارے ۔ میرے دونوں رفقاء شروع ہی سے گھروں میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے۔ میں سب میں قوی تھا ، چلتا پھرتا، بازار میں جاتا ،نماز میں شریک ہوتا ،مگر مجھ سے کوئی بات نہ کرتا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ