تشریف لائے تو مسجد میں تشریف لے گئے اور وہاں تشریف فرمارہے اور منافق لوگ جھوٹے جھوٹے عذر کرتے اور قسمیں کھاتے رہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ان کے ظاہری حال کو قبول فرماتے رہے کہ اتنے میں میں بھی حاضر ہوا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کوسلام کیا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ناراضگی کے انداز میں تبسم فرمایا اور اعراض فرمایا میں نے عرض کیا۔ یانبی اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اعراض کیوں فرمالیا ۔ خداعزوجل کی قسم! میں نہ تو منافق ہوں نہ مجھے ایمان میں کچھ تردد ہے ۔ارشاد فرمایا:کہ یہاں آ۔ میں قریب ہوکر بیٹھ گیا ،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: تجھے کس چیز نے روکا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اگر میں کسی دنیا دار کے پاس اس وقت ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ میں اس کے غصے سے کوئی نہ کوئی بات بنا کر خلاصی پالیتا کہ مجھے بات کرنے کا سلیقہ اللہ عزوجل نے عطا فرمایا ہے۔لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے متعلق مجھے علم ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے سامنے جھوٹ نہیں چل سکتا۔اور اگر میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم سے سچی بات عرض کروں جس سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم مجھ سے ناراض ہو جائیں تو مجھے امید ہے کہ خداعزوجل کی ذات پاک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے عتاب کو زائل کردے گی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم میں سچ ہی عرض کرتا ہوں کہ واللہ عزوجل! مجھے کوئی عذر نہ تھا اور جیسا فارغ اور وسعت والا میں اس زمانہ میں تھا کسی زمانہ میں بھی اس سے پہلے نہ ہوا تھا۔ حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا :اس نے سچ کہا۔ پھر فرمایا کہ اچھا اٹھ جاؤ تمھارا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود فرمائے گا۔ میں وہاں سے اٹھا تو میری قوم کے بہت سے لوگوں نے مجھ سے کہا : بخدا ہم نہیں جانتے کہ تونے