اسی طرح دن گزرتے گئے حتی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم روانہ بھی ہوگئے اور مسلمان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے ساتھ ساتھ تھے مگر میرا سامان سفر تیار نہ ہو ا۔ پھر مجھے یہ خیال رہا کہ ایک دو روز میں تیار ہو کر لشکر سے جاملوں گا۔ اس طرح آج کل پرٹالتا رہا حتی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اور مسلمان تبوک کو روانہ ہوگئے۔ اس وقت میں نے کوشش بھی کی مگرسامان نہ ہوسکا۔ اب جب مدینہ منورہ میں ادھر ادھر دیکھتا ہوں تو صرف وہی لوگ ملتے ہیں جن کے اوپر نفاق کابدنماداغ لگا ہو ا تھا یا معذور تھے۔ ادھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے تبوک پہنچ کردریافت فرمایا کہ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نظر نہیں پڑتے کیا بات ہوئی؟ ایک صاحب نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم! اس کو مال و جمال کے فخر نے روکا، حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ غلط کہا ہم جہاں تک سمجھتے ہیں وہ بھلے آدمی ہیں، مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے بالکل سکوت فرمایا اور کچھ ارشادنہ فرمایاحتی کہ چند روز میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی واپسی کی خبر سنی تو مجھے رنج و غم ہوا اور فکر پیدا ہوئی۔ دل میں جھوٹے جھوٹے عذر آتے تھے کہ اس وقت کسی فرضی عذر سے جان بچا لوں پھر کسی وقت معافی کی درخواست کرلوں گا اور اس بارے میں اپنے گھر انے کے ہر سمجھدار سے مشورہ کرتا رہا مگر جب مجھے معلوم ہو اکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم تشریف لے ہی آئے تو میرے دل نے فیصلہ کیا کہ بغیر سچ کے کوئی چیز نجات نہ دیگی اور میں نے سچ سچ عرض کرنے کی ٹھان لی۔
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی عادت تھی کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو اوّل مسجد میں تشریف لیجاتے او ر دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھتے اور وہاں تھوڑی دیر تشریف رکھتے کہ لوگوں سے ملاقات فرمائیں۔ چنانچہ حسب معمول حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم