Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
136 - 273
بھی معلوم ہوگیا کہ میں اکیلا ہوں۔ ان کے کئی آدمیوں نے مل کر میرا پیچھا کیا میں ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہ بھی چڑھ گئے۔ جب میرے قریب ہوگئے تو میں نے کہا کہ ذرا ٹھہرو! پہلے میری ایک با ت سنو ! تم مجھے جانتے بھی ہو کہ میں کون ہوں انھوں نے کہا کہ بتاؤ تم کون ہو میں نے کہا کہ میں ابن الاکوع ہوں اس ذات پاک کی قسم! جس نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو عزت دی تم میں سے کوئی مجھے پکڑنا چاہے تو نہیں پکڑ سکتا اور میں تم میں سے جسکو پکڑنا چاہوں وہ مجھ سے ہر گز نہیں چھوٹ سکتا۔ ان کے متعلق چونکہ عام طور سے یہ شہرت تھی کہ بہت زیادہ دوڑتے ہیں حتی کہ عربی گھوڑا بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اس لئے یہ دعوی کچھ عجیب نہیں تھا۔ 

    سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس طرح ان سے بات چیت کرتا رہا اور میرا مقصود یہ تھاکہ ان لوگوں کے پاس تومد د پہنچ گئی ہے مسلمانوں کی طرف سے میری مدد بھی آجائے کہ میں بھی مدینہ میں اعلان کرکے آیا تھا۔ غرض ان سے اسی طرح میں بات کرتا رہا اور درختوں کے درمیان سے مدینہ منورہ کی طرف غور سے دیکھتا تھا کہ مجھے ایک جماعت گھوڑے سواروں کی دوڑ کر آتی ہوئی نظر آئی ان میں سب سے آگے اخرم اسدی تھے انھوں نے آتے ہی عبدالرحمن فزاری پر حملہ کیا اور عبدالرحمن بھی ان پر متوجہ ہوا۔ انھوں نے عبدالرحمن کے گھوڑے پر حملہ کیا اور پاؤں کاٹ دیئے جس سے وہ گھوڑا گرا اور عبدالرحمن نے گرتے ہوئے ان پر حملہ کردیاجس سے وہ شہید ہوگئے اور عبدالرحمن ان کے گھوڑے پر سوار ہوگیا ان کے پیچھے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے انہوں نے حملہ شروع کردیا۔ عبدالرحمن نے فوراً  ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے پاؤں پر حملہ کیا جس سے وہ گرے اور گرتے ہوئے انھوں نے عبدالرحمن پرحملہ کیا جس سے وہ