Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
135 - 273
ایک آبادی ہے وہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے کچھ اونٹ چرا کرتے تھے۔ کافروں کے ایک مجمع کے ساتھ عبدالرحمن فزاری نے ان کو لوٹ لیا ،جو صاحب چراتے ان کو قتل کردیا اور اونٹوں کو لیکر چل دئیے۔ یہ لٹیرے گھوڑے پر سوار تھے اور ہتھیار لگائے ہوئے تھے اتفاقاً حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ صبح کے وقت پیدل تیر کمان لئے ہوئے غابہ کی طرف چلے جارہے تھے کہ اچانک ان لٹیروں پر نظر پڑی۔ بچے تھے وہ دوڑتے بہت تھے کہتے ہیں کہ ان کی دوڑ ضرب المثل اور مشہور تھی یہ اپنی دوڑ میں گھوڑے کو پکڑ لیتے تھے اور گھوڑا ان کو پکڑ نہیں سکتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تیری اندازی میں بہت مشہور تھے۔ 

    حضر ت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کی طرف منھ کر کے ایک پہاڑی پرچڑھ کر لُو ٹ کا اعلان کیا اور خود ا ن لٹیروں کے پیچھے دوڑے تیر کمان ساتھ ہی تھی یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچ گئے اور تیر مارنے شروع کئے اور اس پھرتی سے دما دم تیر برسائے کہ وہ لوگ بڑا مجمع سمجھے اور چونکہ خود تنہا تھے اور پیدل بھی تھے اس لئے جب کوئی گھوڑا لوٹا کر پیچھا کرتا تو کسی درخت کی آڑ میں چھپ جاتے اور آڑ میں سے اس گھوڑے کو تیر مارتے جس سے وہ زخمی ہوجاتا اور وہ اس خیال سے واپس جاتا کہ گھوڑا گر گیا تو میں پکڑا جاؤں گا۔

     حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غرض وہ بھاگتے رہے اور میں پیچھا کرتا رہا حتی کہ جتنے اونٹ انہوں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے لوٹے تھے وہ میرے پیچھے ہوگئے اور تیس برچھے اور تیس چادریں وہ اپنی چھوڑ گئے اتنے میں عیینہ بن حصن کی ایک جماعت مد د کے طور پر ان کے پاس پہنچ گئی۔ اور ان لٹیروں کو قوت حاصل ہوگئی اور یہ