انتقام لے ہی نہیں سکتے۔
امیہ بن خلف نے اپنے آدمیوں سے کہا دیکھو! میں ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک ایسا کھیل کھیلتا ہوں کہ ابھی تک ان کے ساتھ یہ کھیل کھیلا نہ گیا ہوگا۔ پھر وہ ہنس کر بولاابوبکر !(رضی اللہ عنہ) تمھارا میرے اوپر قرض ہے تم مجھ سے بلال (رضی اللہ عنہ) کو خرید لو۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں(کیا لوگے) اس نے کہا تمھارے غلام نسطاس کو ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر میں اسے دیدوں تو تم بلال کو مجھے دے د وگے اس نے کہا ہاں! حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں نے یہ کر لیا۔ پھر وہ ہنس کر بولا نہیں آپ کو اس کے ساتھ اس کی بیوی کو بھی دینا ہوگا۔ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا چلو یہی سہی۔
پھر اس نے وہی شرارت کی کہ نہیں آپ کو اس کی بیوی کے ساتھ اس کی لڑکی کو بھی دینا ہوگا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا چلو یہ بھی سہی۔ پھر وہ ہنس کر بولا اتنے میں بھی نہیں ہوسکتا جب تک آپ ان کے ساتھ دوسو دینار نہ دیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تمھیں جھوٹ سے کچھ شرم نہیں ۔ اس نے لات و عزیٰ کی قسم کھا کر کہا اگر آپ یہ دو سو دینار بھی دید یں تو ضرور اپنی بات پوری کروں گا حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ بھی سہی ۔
اب جا کر یہ سودا مکمل ہوتا ہے حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ اتنی بھاری قیمت پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خرید کر رضائے الٰہی عزوجل کے لئے آزاد کردیتے ہیں ۔ حضرت بلال ر ضی اللہ عنہ کو جا نگسل مصائب و آلام سے چھٹکار ا ملتا ہے۔
سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے کمسن جانباز : غابہ مدینہ طیبہ سے چا ر پانچ میل پر