کے پاس آکر ان پر تھوکنے لگے اور کہنے لگے وہ لوگ نا کام اور خسار ہ میں ہیں جنھوں نے تمھاری پرستش کی۔ قریش نے ان کو گرفتار کرنا چاہا لیکن آپ بھاگنے میں کامیاب ہوگئے اوراپنے مالک عبداللہ بن جدعان کے گھر میں چھپ گئے ۔ قریش کے لوگ عبداللہ کے پاس آئے اور اس کو آوازدی ،وہ باہر آیا تو اس سے ان لوگوں نے کہا: کیا تم بے دین ہوگئے ؟ اس نے کہا: مجھ جیسے شخص سے بھی ایسی بات کہی جارہی ہے اب تو محض اسکے کفارہ میں لات و عزی کے لئے ۱۰۰اونٹنیاں قربان کروں گا۔ قریش کے لوگوں نے کہا :تمھارے کالے (بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے یہ یہ کر ڈالا ہے ۔ اس نے ان کو بلایا۔ لوگ ان کو تلاش کرکے عبداللہ کے پاس لائے یہ ان کو پہچانتا نہ تھا۔ اس نے خولیہ کو بلا کر پوچھا یہ کون ہے کیا میں نے تم کو یہ حکم نہ دے رکھاتھا کہ مکہ کے غلاموں میں سے کسی کو یہاں نہ رہنے دینا۔ خولیہ نے کہا یہ تمھاری بکریاں چراتا تھا اور اس کے علاوہ اَور کوئی ان کو پہچانتا نہ تھا اس طرح میں نے اسے چھوڑدیا تھا ۔
اس کے بعد عبداللہ نے ابو جہل اور امیہ بن خلف سے کہا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمھارے حوالے ہے، تم لوگ اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔ یہ دونوں ان کو بطحا کے تپتے ہوئے حصہ پر کھینچتے ہوئے لاتے ہیں او ر ان کے دونوں بازوؤں پر چکی رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں اکفرمحمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم) ! محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا انکار کرو۔ یہ کہتے ہیں یہ نہیں ہوسکتاکہ دامن مصطفے صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم چھوڑوں اور پھر اللہ عزوجل کی تو حید کا اعلان کرتے ہیں ۔
اس عذاب کا سلسلہ ٹوٹا نہ تھا کہ وہاں سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گزر ہو ا انھوں نے فرمایا: اس اسود(کالے) کو کیا کرنا چاہتے ہو خدا عزوجل کی قسم! تم اس سے