| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
پہنچادے۔ توقادروقیوم ہے۔ میرا سلام ان تک پہنچادے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں مدینہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ آثار وحی ظاہر ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی آنکھوں میں آنسوبھر آئے اور بتایا خداعزوجل نے خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلام مجھے پہنچایا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے بشارت دی جو شخص حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تختہ د ار سے نیچے اتارے گا اس کا مقام بہشت ہے۔
(شواہد النبوۃ،رکن رابع، ص۱۰۰)
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسالت: حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ صحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ورضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جن کو بالکل آغاز اسلام میں مشرف بہ اسلام ہونے کا امتیا ز حاصل ہے۔ ایسے خوفناک ماحول میں جب اسلام لانے کی پاداش میں سخت ترین مصائب و آلام سے دو چار ہونا پڑتا تھا، حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کفار مکہ سخت سے سخت اذیتیں دیتے تھے۔ ان کو پکڑ کر لے جاتے اور دھوپ میں لٹا دیتے اور پتھر لا کر ان کے پیٹ پر رکھ دیتے اور کہتے تمہارا دین لات و عزیٰ کا دین ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے میرا پروردگار اللہ عزوجل ہے ۔ایسے ایسے مصائب جھیلتے مگر سینے میں عشق مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرح پیوست تھا کہ سارے آلام و مصائب اس کے سامنے ہیچ تھے۔
(السیرۃ النبویۃ،ذکرعدوان المشرکین علی المستضعفین،ج۱،ص۲۹۷ )
ایک دن حضرت بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے قریش کو اس کا علم نہ تھا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نظر نہ آیا بس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتوں