آخری خواہش کے طور پرپوچھا گیاکہ کوئی تمنا ہو تو بتاؤ انھوں نے فرمایا کہ مجھے اتنی مہلت دو کہ میں دورکعت نماز پڑھ لوں کہ دنیا سے جانے کا وقت ہے اللہ جل شانہ کی ملاقات قریب ہے چنانچہ مہلت دی گئی انھوں نے دورکعتیں بڑے اطمینان سے پڑھیں او ر پھر فرمایا کہ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ یہ سمجھو گے کہ میں موت کے ڈر سے دیر کررہاہوں تو دو رکعت اور پڑھتا اس کے بعد سولی پر لٹکا دئیے گئے۔
حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تختہ دار پر : جب مشرکین مکہ نے حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تختہ دار پر کھڑا کیا تو جناب خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل مکہ کے لئے بددعا کی۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میر ے باپ نے زمین پر لٹا دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر زمین پر لیٹ جائیں تو بددعا کا اثر نہیں ہوتا۔ اس بددعا سے حضرت سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ایک اضطرابی کیفیت طاری ہوگئی مجھ پر اس بددعا کا یہ اثر ہواکہ کئی سالوں تک میری شہرت ختم رہی ۔ کہتے ہیں کہ ایک سال کے اندراندر جتنے آدمی بھی سولی پر چڑھاتے وقت موجود تھے مرکھپ گئے۔
سعید بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعض اوقات بے ہوش ہوجاتے تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں ایک عمل بتایا اور ساتھ ہی پوچھا کہ یہ غشی کا سبب کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ جب خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولی پرکھڑا کیا گیا تو میں وہاں موجود تھا جونہی اس کا نقشہ سامنے آتا ہے میں حواس کھو بیٹھتا ہوں۔ تختہ دار پر حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے اللہ عزوجل ! ہم نے اپنے آقاو مولا جناب محمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی تبلیغ پر عمل کیا، یہاں کوئی بھی نہیں جو میرا پیغام ان تک