Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
131 - 273
آخری خواہش کے طور پرپوچھا گیاکہ کوئی تمنا ہو تو بتاؤ انھوں نے فرمایا کہ مجھے اتنی مہلت دو کہ میں دورکعت نماز پڑھ لوں کہ دنیا سے جانے کا وقت ہے اللہ جل شانہ کی ملاقات قریب ہے چنانچہ مہلت دی گئی انھوں نے دورکعتیں بڑے اطمینان سے پڑھیں او ر پھر فرمایا کہ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ یہ سمجھو گے کہ میں موت کے ڈر سے دیر کررہاہوں تو دو رکعت اور پڑھتا اس کے بعد سولی پر لٹکا دئیے گئے۔

حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تختہ دار پر : جب مشرکین مکہ نے حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تختہ دار پر کھڑا کیا تو جناب خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل مکہ کے لئے بددعا کی۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میر ے باپ نے زمین پر لٹا دیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر زمین پر لیٹ جائیں تو بددعا کا اثر نہیں ہوتا۔ اس بددعا سے حضرت سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ایک اضطرابی کیفیت طاری ہوگئی مجھ پر اس بددعا کا یہ اثر ہواکہ کئی سالوں تک میری شہرت ختم رہی ۔ کہتے ہیں کہ ایک سال کے اندراندر جتنے آدمی بھی سولی پر چڑھاتے وقت موجود تھے مرکھپ گئے۔

     سعید بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعض اوقات بے ہوش ہوجاتے تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں ایک عمل بتایا اور ساتھ ہی پوچھا کہ یہ غشی کا سبب کیا ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ جب خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سولی پرکھڑا کیا گیا تو میں وہاں موجود تھا جونہی اس کا نقشہ سامنے آتا ہے میں حواس کھو بیٹھتا ہوں۔ تختہ دار پر حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے اللہ عزوجل ! ہم نے اپنے آقاو مولا جناب محمد رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی تبلیغ پر عمل کیا، یہاں کوئی بھی نہیں جو میرا پیغام ان تک