Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
130 - 273
    '' اے زید(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! میں تم کو خداعزوجل کی قسم دے کر پوچھتا ہوں۔ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اس وقت ہمارے پاس بجائے تمہارے، محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم) ہوں جن کو ہم قتل کردیں اور تم آرام سے اپنے اہل میں بیٹھو۔''

    حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا:اللہ عزوجل کی قسم ! میں پسندنہیں کرتا کہ محمد ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ) اس وقت جس مکان میں تشریف رکھتے ہیں ان کو ایک کانٹا لگنے کی تکلیف بھی ہو اور میں آرام سے اپنے اہل میں بیٹھا رہوں۔''

    یہ سنکر ابوسفیان نے کہا:''میں نے لوگوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ دوسروں سے ایسی محبت رکھتا ہو جیسا کہ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم، محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے رکھتے ہیں۔ اسکے غلام نِسطاس نے حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کردیا۔ (السیرۃ النبویۃ،ذکر یوم الرجیع فی سنۃ ثلاث،ج۴،ص۱۴۷)

    حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک عرصے تک قید رہے۔ حجیربن ابی اھاب تمیمی کی باندی جو بعد میں مسلمان ہوگئیں کہتی ہیں:''کہ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم لوگوں کی قید میں تھے تو ہم نے دیکھا کہ خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن انگور کابہت بڑا خوشہ آدمی کے سربرابر، ہاتھ میں لئے ہوئے انگور کھا رہے تھے اور مکہ میں اس وقت انگور بالکل نہیں تھا''۔ وہی کہتی ہیں کہ جب ان کے قتل کا وقت قریب آیا تو انھوں نے صفائی کیلئے اُسترہ مانگاوہ دیدیا گیا،اتفاق سے ایک کمسن بچہ اس وقت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچ گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ استرہ ان کے ہاتھ میں ہے اور بچہ انکے پاس ، یہ دیکھ کر گھبرائے خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں بچہ قتل کردوں گا،ایسا نہیں کرسکتا اس کے بعد ان کو حرم سے باہر لایا گیا اور سولی پر لٹکانے کے وقت