Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
129 - 273
جنھوں نے ان کے بدن کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ کافروں کا خیال تھا کہ رات کے وقت جب یہ اڑجائیں گی تو سرکاٹ لیں گے مگر رات کو بارش کی ایک رو آئی اور ان کی نعش کو بہا کر لے گئی اس طرح سات آدمی یا تین آدمی شہید ہوگئے ۔ غرض تین باقی رہ گئے۔ حضرت خبیب، اور زیدبن الدَّثِنَّہ اور عبداللہ بن طارق رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ ان تینوں حضرات سے پھر انھوں نے عہد و پیمان کیا کہ تم نیچے آجاؤ ہم تم سے بدعہدی نہ کریں گے یہ تینوں حضرات رضی اللہ تعالیٰ عنہم نیچے اتر آئے اور نیچے اترنے پر کفارنے ان کی کمانوں کی تانت اتار کر ان کی مشکیں باندھیں۔ 

حضرت عبد اللہ بن طارق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ پہلی بدعہدی ہے میں تمہارے ساتھ ہر گز نہ جاؤ نگا ان شہید ہونے والوں کی اقتدا ہی مجھے پسند ہے انھوں نے زبردستی ان کو کھینچنا چاہا مگر یہ نہ ٹلے توان لوگوں نے ان کو بھی شہید کردیا۔ صرف دو حضرات رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان کے ساتھ رہے جن کو لیجا کر ان لوگوں نے مکہ والوں کے ہاتھ فروخت کردیا۔ایک حضرت زید بن الدثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو صفوان بن امیہ نے پچاس اونٹوں کے بدلے میں خریدا کہ اپنے باپ امیہ کے بدلے قتل کردے۔بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حارث بن عامر کی اولاد نے خرید اکہ انھوں نے بدر میں حارث کو قتل کیا تھا۔ صفوان نے تو اپنے قیدی حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فوراََ ہی حرم سے باہر اپنے غلام کے ساتھ بھیج دیا کہ قتل کردیئے جائیں۔

    حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کرنے کے لئے حدحرم سے باہر لے گئے تو اس کا تماشادیکھنے کے لئے اور بھی بہت سے لوگ جمع ہوئے جن میں ابو سفیان بھی تھے(جواب تک اسلام نہ لائے تھے) ابو سفیان نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یوں کہا: