منورہ بھیجا ۔ انھوں نے وہاں اپنے کو مسلمان ظاہر کیا اور سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے کہہ کر چند حضرات کی جماعت اپنے یہاں تبلیغ دین کی غرض بتاکر ساتھ لائے جن میں حضرت عاصم حضرت خبیب ، حضرت زیدبن الدَّثِنّہ ، حضرت عبداللہ بن طار ق رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی تھے۔ راستہ میں لےجاکر بدعہدی کی اور دوسو آدمیوں کو مقابلہ کیلئے بلالیا جن میں سو آدمی مشہور تیر انداز تھے ۔
دس یا چھ بزرگوں رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی یہ مختصرجماعت دشمنوں کی بدنیتی دیکھ کر فدفدنامی ایک پہاڑی پر چڑھ گئی۔ کفار نے کہاں ہم تمھیں قتل نہیں کرنا چاہتے ۔ صرف اہل مکہ سے تمہارے بدلے کچھ مال لینا چاہتے ہیں تم ہمارے ساتھ آجاؤ مگر انھوں نے کہا ہم کافروں کے عہد میں آنا نہیں چاہتے اور ترکش سے تیر نکال کر مقابلہ کیا جب تیر ختم ہوگئے تو نیزوں سے مقابلہ کیا۔ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساتھیوں سے جوش میں کہا: تم سے دھوکا کیا گیا مگر گھبرانے کی بات نہیں شہادت کو غنیمت سمجھو تمھارامحبوب تمھارے ساتھ ہے اور جنت کی حوریں تمھاری منتظر ہیں یہ کہہ کر جوش سے مقابلہ کیا اور جب نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار سے مقابلہ کیا۔ دشمنوں کا مجمع کثیر تھا آخر شہید ہوگئے اور دعا کی، یا اللہ عزوجل! اپنے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو ہمارے حال سے آگا ہ فرمادینا۔
سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو اسی وقت اس واقعے کا علم ہوگیا۔ حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بھی سن چکے تھے کہ سلافہ نے میرے سر کی کھوپڑی میں شراب پینے کی منت مانی ہے اسلئے مرتے وقت دعا کی، یا اللہ عزوجل! میرا سر تیرے راستے میں کاٹا جارہا ہے تو ہی اس کا محافظ ہے۔ چنانچہ شہادت کے بعد جب کافروں نے سر کاٹنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا اور بعض روایتوں میں ہے کہ بھڑوں کا ایک غول بھیج دیا۔