Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
127 - 273
میں چھپ جاتے۔ جب ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسوار ہوجاتی تھیں تو یہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل دیتے تھے۔ اس طرح بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مدینہ منورہ اپنے شوہر ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچ گئیں ۔ پھر جب   ۴ ھ؁ میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں زخمی ہو کر شہید ہوگئے تو حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے نکاح فرمالیااور ان کو امت مسلمہ کی مادرمقدس ہونے کا شرف حاصل ہوگیا ۔
رضی اللہ تعالی عنہا وارضاھا عنا۔
                (اسدالغابۃ، ام سلمۃ بنت أبی أمیۃ،ج۷،ص۳۷۱)
نوٹ: سفر ہجرت ہر ایک پر فرض تھا، رفاقت محرم یا شوہر کی شرط بھی نہ تھی۔ اور آیت حجاب اس وقت ابھی نازل نہ ہوئی تھی۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے سفر پر کوئی اشکال نہیں۔

عشق ووفا کا عجیب منظر : رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے ایک بار چھ یا دس آدمیوں کی جماعت اہل مکہ کی خبر لانے کیلئے بھیجی۔راستہ میں بنولحیان کے دو سو آدمیوں سے مقابلہ ہوا جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں نے اُحد میں اپنے مقتول کافر عزیز وں کے جوش انتقام میں ان حضرات کو فریب سے اپنے یہاں بلایا۔ سلافہ نامی ایک عورت جس کے دو لڑکے احد میں مارے گئے تھے اس نے منت مانی تھی کہ اگر میرے بیٹوں کے قاتل عاصم کا سر ہاتھ میں آجائے تو اس کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی۔ اس نے اعلان کردیا کہ جو عاصم کا سرلائے اسے سو اونٹ انعام دوں گی۔ 

    سفیان بن خالد نے سوا ونٹوں کی طمع میں قبیلہ عضل وقارہ کے چند آدمیوں کو مدینہ
Flag Counter