Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
126 - 273
بنو مغیرہ کے لوگ آگئے اور کہا کہ خبردار!اے ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! تم خود جاسکتے ہو مگر اپنی لڑکی ام سلمہ کو ہر گز تمہارے ساتھ مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ظالموں نے ام سلمہ اور بچے سلمہ کو اونٹ سے اتا رلیا۔لوگ سمجھتے تھے کہ بیوی اور بچے کی محبت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہجرت سے روک لے گی۔ مگرواہ رے !محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا جذبہ کہ بیوی اور بچے کی جدائی سے کلیجہ شق ہورہا تھا مگر قدم نہیں ڈگمگائے اور بیوی بچے کو خدا حافظ کہہ کر اکیلے مدینے چلے گئے۔

     پھر ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاندان والے بنی عبدالاسد نے بچے سلمہ کو یہ کہہ کر بنی مغیرہ سے چھین لیا کہ لڑکی تمہاری ہے مگر بچہ ہمارے خاندان کا ہے۔ اس طرح بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اور لخت جگر دونوں سے جدا ہوگئیں اور ایک سال تک شوہراور بچے کے فراق میں روتی رہیں ۔ بالآخر ان کے چچا زاد بھائی نے سب کو سمجھابجھا کر راضی کر لیا کہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے بچے کو لے کر ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلی جائے۔ بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جذبۂ ہجرت دیکھئے کہ بچے کولے کر تنہا مدینہ روانہ ہوگئیں ۔ تنعیم کے پاس عثمان بن طلحہ ملے جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے مگر نہایت شریف انسان اور ابو سلمہ کے دوست تھے۔ پوچھا تم اکیلی کہاں جارہی ہو؟ انھوں نے کہا مدینہ، پوچھا تمہارے ساتھ کوئی نہیں ؟ بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ہمارے ساتھ اللہ عزوجل کی ذات کے سوا کوئی بھی نہیں ۔ عثمان بن طلحہ کہنے لگے یہ غیر ممکن ہے تم ایک شریف کی بیوی ہو کر تنہا اتنا لمبا سفر کرو۔ خوداونٹ کی نکیل پکڑ کر بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مدینہ منورہ پہنچا دیا۔

     راستے میں اونٹ پر سامان لا دکر اونٹ کو بٹھا دیتے اور خود کسی درخت کی آڑ