بلکہ یکم محرم ۷ نبوی کو ایک معاہدہ تحریری لکھ کر بیت اللہ میں لٹکا یا گیا تاکہ ہر شخص اس کا احترام کرے اور اس کو پورا کرنے کی کوشش کرے اور اس معاہدہ کی وجہ سے تین برس تک یہ حضرات دو پہاڑوں کے درمیان ایک گھاٹی میں نظر بندرہے کہ نہ کوئی ان سے مل سکتا تھا نہ یہ کسی سے مل سکتے تھے نہ مکہ کے کسی آدمی سے کوئی چیز خرید سکتے تھے نہ باہر سے آنے والے کسی تاجر سے مل سکتے تھے اگر کوئی شخص باہر نکلتا تو پیٹا جاتا اور کسی سے ضرورت کا اظہار کرتا تو صاف جواب پاتا ۔معمولی سامان غلہ وغیرہ جو ان لوگوں کے پاس تھا وہ کہاں تک کام دیتا۔ آخرفاقوں پر فاقے گزرنے لگے اور عورتیں اور بچے بھوک سے بیتاب ہوکر روتے اور چلاتے اور ان کے اعزہ کو اپنی بھوک اور تکالیف سے زیادہ ان بچوں کی تکالیف ستاتیں۔
آخر تین برس کے بعد وہ صحیفہ دیمک کی نذ رہوا اور ان حضرات کی یہ مصیبت دور ہوئی۔ تین برس کا زمانہ ایسے سخت بائیکاٹ اور نظر بندی میں گزرا اور ایسی حالت میں ان حضرات پر کیا کیا مشقتیں گزری ہونگی لیکن اسکے بعد بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نہایت ثابت قدمی کے ساتھ اپنے دین پر جمے رہے بلکہ اس کی اشاعت فرماتے رہے۔