| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اسکے سوا کچھ نہیں کہتے، پادری لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے نجاشی نے کہا تم جو چاہو کہو۔ اسکے بعد نجاشی نے وفد مکہ کے تحفے واپس کردئیے اور مسلمانوں سے کہا تم امن سے ہو جو تمھیں ستائے اس کو تاوان دینا پڑے گااور اس کا اعلان بھی کرادیا کہ جو شخص ان کو ستائے گا اسکو تاوان دینا ہوگا۔
(السیرۃ النبویۃ،ذکرالہجرۃ الاولیٰ،ج۱،ص۳۰۰،ارسال القریش الی الحبشۃ،ج۱، ص۳۱۰)
اس کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں کا اکرام اور بھی زیادہ ہونے لگااوراس وفد کو ذلت سے واپس آنا پڑا۔اس واقعہ سے کفار کا غصہ اور بھی بڑھ گیا ،دوسری طرف حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے نے ان کو اور بھی جلا رکھا تھا لہٰذا ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ ان لوگوں کا ان سے ملنا جلنا بند ہوجائے اور اسلام کاچراغ کسی طرح بجھے ۔ اس لئے سرداران مکہ کی ایک بڑی جماعت نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کھلم کھلا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم) کو قتل کردیا جائے لیکن قتل کرنا بھی آسان کام نہ تھا اس لئے کہ بنوہاشم بھی بڑے جتھے اور اونچے طبقہ کے لوگ شمار ہوتے تھے ان میں اگرچہ اکثر مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن جو مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے قتل ہوجانے پر آمادہ نہیں تھے۔
اس لئے ان سب کفار نے مل کر ایک معاہدہ کیا کہ سارے بنوہاشم اور بنو عبدالمطلب کا بائیکاٹ کیا جائے۔ نہ ان کو کوئی شخص اپنے پاس بیٹھنے دے نہ ان سے کوئی خرید و فروخت کرے، نہ بات چیت کرے، نہ ان کے گھر جائے، نہ ان کو اپنے گھر میں آنے دے اور اس وقت تک صلح نہ کی جائے جب تک کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو قتل کرنے کے لئے ہمارے حوالے نہ کر دیں یہ معاہدہ زبانی ہی گفتگو پر ختم نہیں ہوا