اعمال سے منع فرمایا۔ہم کو قرآن پاک کی تعلیم دی ہم اس پر ایمان لائے اور اس کے فرمان کی تعمیل کی جس پر ہماری قوم دشمن بن گئی اور ہم کو ہر طرح ستایا ہم لوگ مجبور ہوکر تمھاری پناہ میں اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے ارشاد سے آئے ہیں۔
بادشاہ نے کہا جو قرآن تمھارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم لے کر آئے ہیں وہ کچھ ہمیں سناؤ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورهٔ مریم کی اول کی آیتیں پڑھیں جسکو سنکر بادشاہ بھی رودیا اور ان کے پادری جو کثرت سے موجود تھے سب کے سب اس قدر روئے کہ داڑھیاں تر ہوگئیں۔ اس کے بعد بادشاہ نے کہا خداعزوجل کی قسم !یہ کلا م اور جوکلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام لیکر آئے تھے ایک ہی نور سے نکلے ہیں۔ اور ان لوگوں سے صاف انکار کردیا کہ میں ان کو تمھارے حوالے نہیں کر سکتا۔ وہ لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ بڑی ذلت اٹھانی پڑی۔ آپس میں صلاح کی، ایک شخص نے کہا کہ کل ایسی تدبیر کرونگا کہ بادشاہ ان کی جڑہی کاٹ دے ،ساتھیوں نے کہا ایسا نہیں کرناچاہے، یہ لوگ اگرچہ مسلمان ہوگئے ہیں مگر پھر بھی ہمارے رشتہ دار ہیں مگر اس نے نہ مانا۔ دوسرے دن پھر بادشاہ کے پاس گئے اور جاکر کہا یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان کو اللہ عزوجل کا بیٹا نہیں مانتے۔ بادشاہ نے پھر مسلمانوں کو بلایا۔
صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کہتے ہیں کہ دوسرے دن کے بلانے سے ہمیں اور زیادہ پریشانی ہوئی،بہرحال گئے ۔بادشاہ نے پوچھا تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم پر ان کی شان میں نازل ہو اکہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور اس کے رسول ہیں ۔وہ روح اللہ ہیں اور کلمۃاللہ ہیں جسکو خدا عزوجل نے کنواری اور پاک مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف ڈالا۔نجاشی نے کہا