Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
122 - 273
ہم جانتے ہیں اور نہ آپ جانتے ہیں، آپ کے ملک میں آکر رہنے لگے ۔ہم کو شرفائے مکہ نے اور ان کے باپ چچا نے اور رشتہ داروں نے بھیجا ہے کہ انکو واپس لائیں آپ ان کو ہمارے سپرد کردیں۔بادشاہ نے جواب دیا جن لوگوں نے میری پناہ لی ہے بغیر تحقیق ان کو حوالے نہیں کرسکتا ان سے بلاکر تحقیق کرلوں اگر یہ صحیح ہو ا تو حوالے کردوں گا۔

     چنانچہ مسلمانوں کو بلایا گیا۔ مسلمان بہت پریشان ہوئے کیا کریں مگر اللہ عزوجل کے فضل نے مدد کی اور ہمت سے یہ طے کیاکہ چلنا چاہیے اور صاف بات کہنا چاہے بادشاہ کے یہاں پہنچ کر سلام کیا ۔کسی نے اعتراض کیا تم نے بادشاہ کو آداب شاہی کے موافق سجدہ نہیں کیا ان لوگوں نے کہا کہ ہم کو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے اللہ عزوجل کے سوا کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد بادشاہ نے ان سے حالات دریافت کئے حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا:ہم لوگ جہالت میں پڑے ہوئے تھے نہ اللہ عزوجل کو جانتے تھے نہ اس کے رسولوں علیہم السلام سے واقف تھے۔ پتھروں کو پوجتے تھے۔ مردار کھاتے تھے۔ برے کام کرتے تھے رشتے ناطے توڑ تے تھے ہم میں کا قوی ضعیف کو ہلاک کردیتا تھا ہم اسی حال میں تھے کہ اللہ عزوجل نے ایک رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم بھیجا جس کے نسب، جس کی سچائی، اور امانت داری کو ہم خوب جانتے ہیں۔ اس نے ہم کو ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور پتھر اور بتوں کے پوجنے سے منع فرمایا۔ اس نے ہم کو اچھے کام کرنے کا حکم دیا۔ نماز ، روزہ ، صدقہ خیرات کا حکم دیا اور اچھے اخلاق تعلیم کئے ۔زنا ، بدکاری ، جھوٹ بولنا، یتیم کا مال کھانا، کسی پر تہمت لگانا اور اس قسم کے برے