Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
121 - 273
مسلمان نہ ہوئے تھے مگر ان کے رحمدل اور منصف مزاج ہونے کی شہرت تھی ۔ چنانچہ اعلانِ نبوت کے پانچویں برس رجب کے مہینہ میں پہلی جماعت کے گیارہ یا بارہ مرد اور چار یا پانچ عورتوں نے حبشہ کی ہجرت کی۔ مکہ والوں نے ان کاپیچھا بھی کیا کہ یہ نہ جاسکیں،مگر یہ لوگ ہاتھ نہ آئے وہاں پہنچ کر ان کو یہ خبر ملی کہ مکہ والے سب مسلمان ہوگئے اور اسلام کو غلبہ ہوگیا۔ اس خبر سے یہ حضرات بہت خوش ہوئے اور اپنے وطن کی طرف لوٹے۔ لیکن مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ کر معلوم ہو ا کہ یہ خبر غلط تھی اور مکہ والے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ دشمنی اور ایذارسانی میں مصروف ہیں تو ان میں سے بعض حضرات وہیں سے واپس ہوگئے اور بعض کسی کی پناہ لے کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ یہ حبشہ کی پہلی ہجرت کہلاتی ہے۔

     اس کے بعد ایک بڑی جماعت نے(جو ۸۳مرد اور ۱۸عورتیں بتائی جاتی ہے) متفرق طور پر ہجرت کی اور یہ حبشہ کی دوسری ہجرت کہلاتی ہے۔ بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے دونوں ہجرتیں کیں، اور بعض نے ایک ۔کفار نے جب دیکھا یہ لوگ حبشہ میں چین کی زندگی بسر کرنے لگے تو ان کو اور بھی غصہ آیا اور بہت سے تحائف کے ساتھ نجاشی شاہ حبشہ کے پاس ایک وفد بھیجا جو بادشاہ کے لئے بہت سے تحفے لے کر گیا۔ اور اس کے خواص اور پادریوں کیلئے بھی بہت سے ہدیے لے کر گیا۔ جاکر پادریوں اور حکام سے ملااور ہدیے دیکر ان سے بادشاہ کے یہاں اپنی سفارش کا وعدہ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں یہ وفد حاضر ہوا۔ اول بادشاہ کو سجدہ کیا اور پھر تحفے پیش کرکے اپنی درخواست پیش کی اور رشوت لینے والے حکام نے تا ئید کی۔ انھوں نے کہا اے بادشاہ! ہماری قوم کے چند بیوقوف لڑکے اپنے قدیمی دین کو چھوڑ کر ایک نئے دین میں داخل ہوگئے جسکو