Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
120 - 273
حضرت عما ر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگ کے کوئلوں پر: اسی طرح حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہلے چوب اور کوڑوں کی مار سے کفار نے نڈھال کردیا۔ پھر آگ کے دہکتے ہوئے کوئلو ں پر پیٹھ کے بل لٹا دیا۔ مگر یہ استقامت کا پہاڑ بن کر اسلام پر ثابت قدم رہے۔ اس حالت میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ان کے قریب سے گزرے تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کہہ کر پکارا ،عماررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ مصیبت دیکھ کر رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا دل صدموں سے چور چور ہوگیا اور فرمایا:
یَا نَارُ کُوْنِیْ بَرْدًاوَّسَلٰمًاعَلٰی عَمَّارٍ کَمَاکُنْتِ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ
یعنی اے آگ ! تو عمار پر اس طرح ٹھنڈک او رسلامتی بن جا جس طرح تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی تھی۔ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زخموں پر اپنا دست شفقت پھیرتے ہوئے فرماتے کہ ''عمار طیب و مطیب'' یعنی عمارپاکیزہ اور خوشبودار ہے ۔
            (الطبقات الکبری لابن سعد،عمار بن یاسر، ج۳،ص۱۸۸)
ہجرت حبشہ اور شعب ابی طالب: مسلمانوں کو اور انکے سردار فخرد و عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کو کفار سے جب تکالیف پہنچتی ہی رہیں اور آئے دن ان میں بجائے کمی کے اضافہ ہی ہوتا رہا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس بات کی اجازت مرحمت فرمادی کہ وہ یہاں سے دوسری جگہ چلے جائیں۔ بہت سے حضرات نے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ حبشہ کے بادشاہ اگر چہ نصرانی تھے اور اس وقت
Flag Counter