Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
119 - 273
اچھی بیٹی تھی جو میری محبت میں ستائی گئی۔
 (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ذکربنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۸،ص۲۶۔۲۷

و سیرۃ النبویۃ لابن ھشام،خروج زینب الی المدینۃ،ج۱،ص۵۷۶)
حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جلی ہوئی پیٹھ: امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک مرتبہ صحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیٹھ نظر آگئی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ پوری پشت مبارک میں سفید سفید زخموں کے نشان ہیں۔ دریافت فرمایا کہ اے خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! یہ تمھاری پیٹھ میں زخموں کے نشان کیسے ہیں ؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ امیرالمومنین آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ا ن زخموں کی کیا خبر؟ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ ننگی تلوار لیکر حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا سر کاٹنے کے لئے دوڑتے پھرتے تھے۔ اس وقت ہم نے محبت رسو ل صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا چراغ اپنے دل میں جلا یا اور مسلمان ہوئے۔ اس وقت کفار مکہ نے مجھ کو آگ کے جلتے ہوئے کوئلوں پر پیٹھ کے بل لٹا دیا میری پیٹھ سے اتنی چربی پگھلی کہ کوئلے بجھ گئے اور میں گھنٹوں بے ہوش رہا مگر رب کعبہ کی قسم ! کہ جب مجھے ہوش آیا تو سب سے پہلے زبان سے کلمہ
لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
نکلا۔

امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مصیبت سنکر آبدیدہ ہوگئے اور فرمایا: اے خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! کرتا اٹھاؤ! میں تمھاری اس پیٹھ کی زیارت کروں گا۔ اللہ اللہ ! یہ پیٹھ کتنی مبارک و مقدس ہے جو محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی بدولت آگ میں جلائی گئی ہے۔
        (الطبقات الکبری لابن سعد،خباب بن الارت،ج۳،ص۱۲۳)
Flag Counter