Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
116 - 273
دونوں طرف سے تلوار چلنے کو تھی کہ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی تو خبرلے تیری بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہوچکے ہیں۔ 

    یہ سننا تھا کہ غصہ سے بھر گئے اور سیدھے بہن کے گھر گئے۔ وہاں حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اڑبند کئے ہوئے ان دونوں میاں بیوی کو قرآن شریف پڑھا رہے تھے عمر نے کواڑ کھلوائی ان کی آواز سے حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو جلدی سے اندرچھپ گئے لیکن وہ صحیفہ جلدی میں باہررہ گیا جس پر آیات قرانی لکھی ہوئی تھیں۔ ہمشیر ہ نے کواڑ کھولا عمر کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسکو بہن کے سر پر مار ا جس سے سر سے خون بہنے لگا اور کہا کہ اپنی جان کی دشمن تو بھی بددین ہوگئی اس کے بعد گھر میں آئے اور پوچھا کیا کررہے تھے اور یہ آواز کس کی تھی بہنوئی نے کہا کہ بات چیت کررہے تھے کہنے لگے کیا تم نے اپنے دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرلیا۔ بہنوئی نے کہا اگر دوسرا دین حق ہو تو؟ یہ سننا تھا کہ ان کی داڑھی پکڑ کر کھینچی اور بے تحاشا ٹوٹ پڑے اور زمین پر گرا کر خوب مارا بہن نے چھڑانے کی کوشش کی تو ان کے منہ پر ایک طمانچہ اس زور سے مارا کہ خون نکل آیا۔ وہ بھی آخر عمر ہی کی بہن تھیں کہنے لگیں عمر !ہم کو اس وجہ سے مارا جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہوگئے۔ بے شک ہم مسلمان ہوگئے جو تجھ سے ہو سکے تو کرلے۔

     اس کے بعد عمر کی نظر اس صحیفے پر پڑی جو جلدی میں باہررہ گیا تھااور غصہ کا جوش بھی اس مارپیٹ سے کم ہوگیا تھا اور بہن کے اس طرح خون میں بھر جانے سے شرم سی آرہی تھی، کہنے لگے اچھا مجھے دکھلاؤ یہ کیا ہے بہن نے کہا کہ تو ناپاک ہے اور اس کو ناپاک ہاتھ نہیں لگا سکتے ہرچند کوشش کی مگر وہ بے وضو اور بے غسل کے دینے کو