Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
115 - 273
     حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اس وقت قبامیں تشریف فرما تھے صورت دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ نفع کی تجارت کی۔ صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اس وقت کھجور تناول فرما رہے تھے اور میری آنکھ دکھ رہی تھی ساتھ کھانے لگا حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نےفرمایا کہ آنکھ تو دکھ رہی ہے اور کھجوریں کھاتے ہو۔ میں نے عرض کیا:
 حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اس آنکھ کی طرف سے کھاتا ہوں جو درست ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم یہ جواب سنکر ہنس پڑے۔
 (اسدالغابۃ،ج۳،ص۳۹)
     حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے ہی خرچ کرنیوالے تھے۔ حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم فضول خرچی کرتے ہو۔ انھوں نے عرض کیا کہ ناحق کہیں خرچ نہیں کرتا ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جب وصال ہونے لگا تو انھیں کو جنازہ کی نماز پڑھانے کی وصیت فرمائی تھی۔
(اسدالغابۃ،ج۳،ص۴۱)
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بہنوئی اور بہن: فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کون واقف نہیں؟ قبل اسلام یہ بھی نمایاں تھے اور اسلام و اہل اسلام کی عداوت میں سرگرم یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے قتل کے درپے رہتے تھے ایک روز کفار نے مشورہ کی کمیٹی قائم کی کہ کوئی ہے جو محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم )کو قتل کردے؟ عمر نے کہا کہ میں کروں گا! لوگوں نے کہا بے شک تم ہی کرسکتے ہو، عمر تلوار لٹکائے ہوئے اٹھے اور چل دئیے ۔ اسی فکر میں جا رہے تھے کہ ایک صاحب قبیلہ بنو زہرہ کے جن کا نام حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔ بعض نے حضرت نعیم کا نام لکھاہے۔ انھوں نے پوچھا عمر کہاں جارہے ہو؟کہنے لگے محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم) کے قتل کی فکر میں ہوں۔(نغوذباللہ عزوجل) سعد نے کہا ۔ بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے مطمئن ہوگئے وہ تم کو بدلہ میں قتل کردیں گے۔ اس جواب پر بگڑ گئے اور کہنے لگے معلوم ہوتا ہے تو بھی بے دین(یعنی مسلمان) ہوگیا ہے لا پہلے تجھی کونمٹا دوں۔ یہ کہہ کر تلوار سونت لی اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہ کہہ کر ہاں میں مسلمان ہوگیا ہوں تلوارسنبھالی
Flag Counter