| صحابہ کِرام کا عشقِ رسول |
تیار نہ ہوئیں۔ عمر نے غسل کیا اوراس کو لے کر پڑھا اس پرسورہ طٰہٰ لکھی ہوئی تھی اس کو پڑھنا شروع کیا اور
'' اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیۡ ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیۡ ﴿۱۴﴾''
(پ۱۶،طہ:۱۴) تک پڑھا تھا کہ حالت ہی بدل گئی کہنے لگے اچھا مجھے بھی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے پاس لے چلو ۔یہ الفاظ سنکر حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر سے نکلے اور کہا کہ اے عمر! تمہیں خوشخبری دتیا ہوں کہ کل شب پنجشنبہ(بدھ) حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم نے دعا مانگی تھی کہ یااللہ عمر یا ابوجہل میں جو تجھے زیادہ پسند ہو اس سے اسلام کو قوت عطا فرما(یہ دونوں قوت میں مشہور تھے) معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی دعا تمہارے حق میں قبول ہوگئی۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جمعہ کی صبح کو مسلمان ہوئے۔
(تاریخ الخلفاء،فصل فی الأخبارالواردۃفی اسلامہ،ص۸۷)
حضرت زینب بنت رسول ا للہ عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم ورضی اللہ عنہا کی ہجرت اور وفات :
دوجہاں کے سردار حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اعلانِ نبوت سے دس سال پہلے جبکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی عمرشریف ۳۰ برس کی تھی پید ا ہوئیں اور خالہ زاد بھائی ابو العاص بن ربیع سے نکاح ہوا۔ ہجرت کے وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے ساتھ نہ جا سکیں ان کے خاوند بدر کی لڑائی میں کفار کے ساتھ شریک ہوئے اور قید ہوئے اہل مکہ نے جب اپنے قیدیوں کی رہائی کیلئے فدیے ارسال کئے تو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی اپنے خاوند کی رہائی کیلئے مال بھیجا جس میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے