جوکچھ اس زمانہ میں قلیل اورکمزور جماعت کو پیش آتا تھا وہ پیش آیا۔ ہر طرح ستائے گئے۔ تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ آخرکار ہجرت کا ارادہ فرمایا تو کافروں کو یہ چیز بھی گوارا نہ تھی کہ یہ لوگ کسی دوسری جگہ جا کر آرام سے زندگی بسر کریں۔
اس لئے جس کی ہجرت کا حال معلوم ہوتا تھا اسکو پکڑنے کی کوشش کرتے تھے کہ تکالیف سے نجات پا نہ سکے۔ چنانچہ ان کا بھی پیچھا کیا گیا، اور ایک جماعت ان کو پکڑنے کے لئے گئی انھوں نے اپنا ترکش سنبھالا جس میں تیر تھے اور ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو تم کو معلوم ہے کہ میں تم سے زیادہ تیر انداز ہوں ایک بھی تیر میرے پاس باقی رہے گا تو تم لوگ مجھ تک آنہیں سکو گے اور جب ایک بھی تیر نہ رہے گا تو میں اپنی تلوار سے مقابلہ کروں گا یہاں تک کہ تلوار بھی میرے ہاتھ میں نہ رہے اس کے بعد جو تم سے ہوسکے کرنا۔ اس لئے اگر تم چاہو تو اپنی جان کے بدلہ میں اپنے مال کا پتابتا سکتا ہوں جو مکہ میں ہے اور دوباندیاں بھی ہیں وہ تم سب لے لو! اس پروہ لوگ راضی ہوگئے حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا مال دیکر جان چھڑائی اس بارہ میں آیت پاک نا زل ہوئی۔