Brailvi Books

صحابہ کِرام کا عشقِ رسول
113 - 273
قبا میں حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اول پتھر جمع کئے اور پھر مسجد بنائی۔ لڑائی میں نہایت جوش سے شریک ہوتے تھے ایک مرتبہ وجد میں آکر کہنے لگے اب جا کر دوستوں سے ملیں گے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم اور ان کی جماعت سے ملیں گے اتنے میں پیاس لگی اور پانی کسی سے مانگا اس نے دودھ سامنے کیا اس کو پیا اورپی کر کہنے لگے میں نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے سنا کہ تودنیا میں سب سے آخری چیز دودھ پئے گا اس کے بعد شہید ہوگئے، اس وقت چورانوے برس کی عمر تھی بعض نے ایک آدھ سال کم بتلائی ہے۔
(ماخوذمن اسدالغابۃ،ج۴،ص۱۴۱)
    ان کی والدہ حضرت سمیہ بنت خُبَّاط رضی اللہ تعالیٰ عنہا مظلومانہ شہادت کے علاوہ اور بھی سختیاں جھیل چکی ہیں ان کو گرمی کے وقت سخت دھوپ میں کنکریوں پر ڈالا جاتا، لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کیا جاتا تاکہ دھوپ کی گرمی سے لوہا تپنے لگے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا ادھر سے گزر ہوتا تو صبر کی تلقین اور جنت کا وعدہ فرماتے یہاں تک کہ سب سے بڑ ے دشمن اسلام ابو جہل کے ہاتھوں انکی شہادت ہوئی۔ رضی اللہ عنھا وارضاھا عنا.
 (اسدالغابۃ،ج۷،ص۱۶۷)
حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام: حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے ساتھ مسلمان ہوئے ۔نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم حضرت ارقم صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر تشریف فرماتھے کہ یہ دونوں حضرات علیحدہ علیحدہ حاضر خدمت ہوئے اور مکان کے دروازے پر اتفاقیہ اکٹھے ہوگئے ہر ایک نے دوسرے کی غرض معلوم کی تو ایک ہی غرض یعنی اسلام لانا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے فیض سے مستفیض ہونا دونوں کا مقصود تھا۔ اسلام لائے اور اسلام لانے کے بعد
Flag Counter