حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کایہ جوش اظہار غلبہ حق کے ولولہ کی بنا پر تھا اور سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا منع اظہار شفقت کی بنیاد پر ، لیکن حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم جب خود مصائب جھیل رہے ہیں تو ہمیں پیچھے رہنے کی کیا ضرورت ؟ اس لئے اپنی راحت پر سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے اتباعِ عمل کو ترجیح دی اور پھر اطاعت حق میں ہمیشہ سرگرم رہے۔
حضرت عمار ا ور ان کے والدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم : حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ماں باپ کو بھی سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ مکہ کی سخت گرم او رریتلی زمین میں ان کو عذاب دیا جاتا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کا اس طرف گزر ہوتا تو صبر کی تلقین فرماتے اور جنت کی بشارت فرماتے، آخر ان کے والد حضرت یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ا سی حالت تکلیف میں وفات پاگئے کہ ظالموں نے مرنے تک چین نہ لینے دیا اور ان کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے بھی سخت تکالیف اٹھائیں ابو جہل نے ان کی ناف کے نیچے بر چھا مارا جس سے وہ شہیدہو گئیں مگر اسلام سے نہ ہٹیں حالانکہ بوڑھی تھیں ضعیف تھیں مگر اس بد نصیب نے کسی چیز کا خیال نہیں کیا۔
اسلام میں سب سے پہلی شہادت ان کی ہے اور اسلام میں سب سے پہلی مسجد حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بنائی ہوئی ہے۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم سے عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کے لئے ایک سایہ دار مکان بنانا چا ہے جس میں تشریف رکھا کریں اور دوپہر کو آرام فرمالیا کریں اور نماز بھی سایہ میں پڑھ لیا کریں، تو